قانون

چیف جسٹس امین الدین خان: سپرٹیکس کیس میں فیصلہ

Published

on

چیف جسٹس امین الدین خان نے سپرٹیکس کیس میں فیصلہ سنایا

سپرٹیکس کیس کی سماعت وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہوئی۔
بنچ میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ شامل تھے۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر تمام اعتراضات مسترد کیے جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 بی 2015 کو برقرار رکھا جائے گا اور ہائی کورٹس کے سیکشن 4 سی کے متعلق فیصلے کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔


سپرٹیکس پر وفاقی آئینی عدالت کا موقف

وفاقی آئینی عدالت نے 2015 کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو انکم پر ٹیکس لگانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
مزید یہ کہ 2022 کی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئی ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اگر کسی انفرادی کو رعایت بنتی ہے تو وہ متعلقہ فورم پر رجوع کرے۔
اسی طرح مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینولیٹ فنڈز پر سپرٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔


مختلف سیکٹرز کی قانونی رعایتیں برقرار

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق مختلف سیکٹرز سے متعلق موجودہ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔
اس کے علاوہ یہ فیصلہ حکومت کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے اور سپرٹیکس سے متعلق ابہام ختم کرتا ہے۔


سپرٹیکس کیس کے مالی اثرات

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے وفاقی حکومت کو تین سو ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوگا۔
مزید یہ کہ اب سپرٹیکس پر قانونی چیلنجز محدود ہو جائیں گے اور ٹیکس سسٹم میں شفافیت بڑھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version