قانون
پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس بلز منظور، اپوزیشن کا احتجاج
اسلام آباد میں پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس بلز کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود متعدد اہم بلز منظور کر لیے گئے۔
یہ اجلاس صدرِ مملکت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود جاری رکھا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا۔
تاہم اجلاس مقررہ وقت سے تقریباً 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔
اجلاس کے دوران قانون سازی سے متعلق کئی اہم نکات زیر بحث آئے۔
اسی دوران اپوزیشن اراکین نے ایوان میں شدید احتجاج کیا۔
انہوں نے مختلف بلز پر تحفظات کا اظہار کیا۔
اس کے باوجود حکومتی بینچز نے قانون سازی کا عمل آگے بڑھایا۔
مشترکہ اجلاس میں صدرِ مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل پر اعتراض سامنے آیا۔
صدر نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اتھارٹی کے قیام سے قبل صوبوں سے مشاورت کرنی چاہیے۔
ان کے مطابق تعلیم ایک حساس شعبہ ہے، جس پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
اسی طرح گھریلو تشدد سے متعلق بل پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے۔
صدرِ مملکت نے بل کی بعض شقوں کو مبہم قرار دیا۔
خصوصاً تجویز کردہ سزاؤں پر سوالات اٹھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد سے متعلق قانون کو موجودہ شکل میں منظور کرنے کے بجائے مزید غور کی ضرورت ہے۔
تاہم، حکومتی ارکان نے موقف اختیار کیا کہ یہ بلز عوامی مفاد میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی میں تاخیر سے اہم سماجی مسائل حل نہیں ہو پاتے۔
اسی بنیاد پر بلز کو منظوری دے دی گئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس بلز کی منظوری آنے والے دنوں میں سیاسی بحث کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
اپوزیشن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ان قوانین کے خلاف آئینی اور پارلیمانی فورمز پر آواز اٹھائے گی۔
یوں یہ معاملہ مستقبل میں بھی زیر بحث رہنے کا امکان رکھتا ہے۔