Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
قطر کا ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس

news

قطر کا ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس

Published

on

اسرائیل کی جانب سے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملے کے بعد قطر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک ہنگامی عرب و اسلامی سربراہی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یہ اجلاس اتوار اور پیر کو قطری دارالحکومت دوحہ میں ہوگا، جہاں عرب اور اسلامی ممالک کے رہنما اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال پر غور کریں گے۔ قطر کی طرف سے یہ اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی اور اپنی خودمختاری کی مبینہ خلاف ورزی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

اس حملے کے بعد امیرِ قطر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے قطر سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی۔ امیرِ قطر نے واضح کیا کہ یہ حملہ اسرائیل کی مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے اور قطر اپنی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔

دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران قطری وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی نے اس حملے کو “ریاستی دہشت گردی” قرار دیا۔ ان کے مطابق، امریکہ نے قطر کو حملے کے محض دس منٹ بعد خبردار کیا اور اطلاع دی کہ اسرائیل نے ایسے ہتھیار استعمال کیے جو ریڈار پر دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے کو ایک خطرناک اور غیر مستحکم صورتحال کی طرف دھکیل رہا ہے، اور اس کے حالیہ اقدامات تمام اخلاقی حدود پار کر چکے ہیں۔

قطری وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب قطر، امریکی درخواست پر، امن بات چیت کی کوششوں میں مصروف تھا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے سوال کیا کہ “کیا اب بھی واضح نہیں کہ خطے میں دہشت اور شدت پسندی کو ہوا کون دے رہا ہے؟” ان کا کہنا تھا کہ قطر نے ہمیشہ غزہ میں جنگ روکنے کی کوشش کی، لیکن اسرائیلی جارحیت نے امن کے امکانات کو ختم کر دیا ہے۔

اس کے باوجود، انہوں نے کہا کہ قطر کی سفارتکاری علاقائی استحکام اور سیاسی حل کی بنیادوں پر قائم ہے اور کوئی بھی پرتشدد کارروائی قطر کو ثالثی کے اپنے کردار سے نہیں روک سکتی۔ قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حملے کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version