news
عمران خان کو اڈیالہ جیل سے خیبر پختون خواہ منتقل کرنے کی درخواست 20 ہزار جرمانے کے ساتھ خارج
اسلام آباد سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں اڈیالہ جیل سے خیبر پختون خواہ منتقل کر دیا جائے خارج کر دی ہے
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے خیبر پختونخواہ منتقل ہونے کی درخواست پر سماعت کی درخواست میں کہا گیا کہ یہ قومی مسئلہ ہے کسی کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے
سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے یہ کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو کوئی مسئلہ ہوگا تو وہ خود درخواست دیں گے ان کے تین وکلاء آج بھی عدالت میں موجود تھے ان کی طرف سے کسی وکیل نے ایسی کوئی درخواست نہیں دی جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قیدی کے اہل خانہ یا قیدی خود ایسی درخواست دے سکتا ہے قومی مسائل کے حوالے سے آپ کو رکن اسمبلی کے طور پر سوچنا چاہیے بعدازاں آئینی بنچ کی طرف سے مقامی شہری کی درخواست 20 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ خارج کر دی گئی
یاد رہے کہ تین دن قبل سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے عمران خان کو خیبر پختون خواہ جیل منتقل کرنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی تھی شہری قیوم خان کی طرف سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کی جیل سے منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو درخواست کی سماعت کرے گا علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سانحہ نو مئی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے اور 8 فروری عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے عمران خان کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی تھیں
آئینی بینچ نے آئندہ ہفتے کے لیے اہم اقدامات سماعت کے لیے مقرر کیے تھے سپریم کورٹ نے نو مئی کے سانحہ پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کی تھی اور اس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس نے کہا گیا تھا کہ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی آئینی بینچ 10 دسمبر کو درخواست پر سماعت کرے گا
سپریم کورٹ کے اندر انتخابی دھاندلی کے خلاف عمران خان کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات اراکین پر مشتمل آئینی بینچ 11 دسمبر کو درخواست کی سماعت کرے گا
news
بیرسٹر گوہر علی خان کا پارلیمنٹ سے مذاکرات کا مطالبہ
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے راستہ فراہم کرے تاکہ 9 مئی کی دھول بیٹھ سکے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا حساب لینے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور اس مقصد کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے مذاکرات کا راستہ نہ دیا تو پی ٹی آئی پھر سے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گی اور انہیں بار بار سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے 9 مئی کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کئی ممالک میں لوگوں نے ایوانوں میں داخل ہو کر احتجاج کیا لیکن وہاں گولی نہیں چلائی گئی، جبکہ پاکستان میں آئینی احتجاج کے دوران گولی چلائی گئی۔ وزیر دفاع کی جانب سے گولی چلانے کا الزام علی امین گنڈاپور کے گارڈز پر لگانے پر گوہر علی خان نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ حکومت یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ گولی چلائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نفاذ شریعت محمدی کے دوران گولی چلنے سے آٹھ افراد جان سے گئے تھے، لیکن حکومت نے پرچے کاٹ کر معافی مانگی اور معافی مل گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت شہید ہونے والوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی تھی؟
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں پشتون کارڈ استعمال کرنے کا طعنہ دیا جاتا ہے، مگر ان کا موقف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل لوگ غیر مسلح تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے کسی بھی ویڈیو میں اسلحہ استعمال نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو مقبولیت کے لیے جلسے جلوس نکالنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ 8 فروری کو ان کی مقبولیت ثابت ہو چکی ہے۔
news
وزیر دفاع خواجہ آصف کا عمران خان اور جنرل فیض حمید کی پارٹنرشپ پر بیان
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور جنرل فیض حمید کی پارٹنرشپ 2018ء سے پہلے کی تھی اور یہ پارٹنرشپ 9 مئی کے بعد بھی جاری رہی۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سرفہرست تھے اور یہ بات شہادتوں سے سامنے آئے گی کہ 2018 میں کس طرح دھاندلی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور اقتدار میں بہت سے سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا گیا اور اس بارے میں قانون فیصلہ کرے گا۔ وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ ڈی چوک میں علی امین گنڈاپور کے گارڈز نے اپنے ہی افراد کو مارا اور اس کا ملبہ پولیس اور رینجرز پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنڈا پور کی گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے گئے اور پھر فائرنگ کی گئی، جس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ صحافیوں نے جو کوریج کی وہ بھی ثبوت فراہم کرتی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض لوگ 12 افراد کی شہادت کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ ان 5 افراد کی شہادت کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو رینجرز اور پولیس کے افسران تھے اور دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے۔ ان کے مطابق، ان شہداء کا خون بھی قیمتی ہے اور ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ جب قانون حرکت میں آتا ہے تو اس کا اطلاق سب پر یکساں ہوتا ہے اور جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ریاستی ادارے اور افسران قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ پاکستان کی سلامتی میں رینجرز، پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی قربانیاں محفوظ رہیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے دور میں کئی افراد کے ملٹری ٹرائل ہوئے تھے، جو اب مختلف وجوہات کی بنا پر نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی قانونی طریقے سے ہوا اس کا جواز تھا، لیکن اگر کوئی فرد قانون سے باہر جا کر کام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے اور اس میں کوئی شخص یا ادارہ استثنیٰ نہیں ہے۔ قانون کی بالادستی کے لئے ہر فرد اور ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک میں امن قائم رہے اور ہر فرد کو انصاف مل سکے۔
- سیاست7 years ago
نواز شریف منتخب ہوکر دگنی خدمت کریں گے، شہباز کا بلاول کو جواب
- انٹرٹینمنٹ7 years ago
راحت فتح علی خان کی اہلیہ ان کی پروموشن کے معاملات دیکھیں گی
- کھیل7 years ago
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ساتھی کھلاڑی شعیب ملک کی نئی شادی پر ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
- انٹرٹینمنٹ7 years ago
شعیب ملک اور ثنا جاوید کی شادی سے متعلق سوال پر بشریٰ انصاری بھڑک اٹھیں