Health
امریکہ کی ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی: عالمی صحت کو خطرہ
امریکہ کی ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی پر عالمی تشویش
امریکہ کی ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی پر عالمی ادارہ صحت نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ادارے کے مطابق اس فیصلے سے صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا طبی تحفظ متاثر ہوگا۔
اسی لیے اس اقدام کو عالمی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ کو بدنام کرنے یا اس کی خودمختاری پر سمجھوتے کا الزام بے بنیاد ہے۔
بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
امریکہ کے ساتھ روابط اور مؤقف
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، دیگر ممالک کی طرح امریکہ کے ساتھ بھی ہمیشہ نیک نیتی سے تعلقات قائم رکھے گئے۔
اسی دوران امریکی خودمختاری کا مکمل احترام کیا گیا۔
کسی بھی مرحلے پر مداخلت کی کوشش نہیں کی گئی۔
تاہم امریکہ نے الزام لگایا کہ کووڈ۔19 وبا کے دوران ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ اہم معلومات بروقت فراہم نہیں کی گئیں۔
ڈبلیو ایچ او نے ان دعوؤں کو یکسر غلط قرار دیا ہے۔
کووڈ۔19 کے دوران ڈبلیو ایچ او کا کردار
ادارے کے مطابق دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے نمونیہ کے کیسز سامنے آتے ہی فوری کارروائی کی گئی۔
اسی وقت ہنگامی نظام فعال کیا گیا۔
چین سے مزید معلومات بھی طلب کی گئیں۔
بعد ازاں 11 جنوری 2020 تک دنیا کو خطرے سے آگاہ کر دیا گیا۔
عالمی ماہرین کو تحقیق کے لیے اکٹھا کیا گیا۔
اسی طرح رکن ممالک کو صحت کے تحفظ سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔
30 جنوری 2020 کو کووڈ۔19 کو عالمی طبی ہنگامی صورتحال قرار دیا گیا۔
اس وقت چین سے باہر کیسز کی تعداد 100 سے کم تھی۔
کسی ہلاکت کی اطلاع بھی موجود نہیں تھی۔
خودمختاری اور فیصلوں کا احترام
وبا کے دوران ڈبلیو ایچ او نے احتیاطی تدابیر کی سفارش کی۔
مثال کے طور پر ماسک، ویکسین اور سماجی فاصلہ شامل تھے۔
تاہم کسی بھی پابندی کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔
ان تمام فیصلوں کا اختیار رکن ممالک کے پاس رہا۔
یوں ہر ملک نے اپنی صورتحال کے مطابق اقدامات کیے۔