news
مولانا فضل الرحمان کا کم عمری شادی قانون ماننے سے انکار
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 18 سال سے کم عمر شادی سے متعلق قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دے دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسی قانون سازی اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجی جانی چاہیے تھی۔
ان کے مطابق شریعت سے متعلق فیصلے پارلیمنٹ نہیں بلکہ دینی ادارے کریں۔
مزید یہ کہ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس قانون کی کھلی خلاف ورزی کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کروائیں گے۔
اسی دوران انہوں نے ایوان میں شدید احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے قوانین ملک میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے حکومت کے طرزِ فکر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقتی اور دباؤ پر مبنی سیاست ہے۔
ان کے بقول ایسے قوانین اقوام متحدہ یا آئی ایم ایف کی شرائط پر بنائے جاتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے آئین کا حلف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے طور پر اٹھایا ہے۔
اگر اسلامی اصول نظرانداز کیے جائیں تو پھر ملک کے نام پر بھی سوال اٹھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئینی ترامیم کی بھی مخالفت کریں گے۔
ان کے مطابق وہ 15، 16 حتیٰ کہ 10 سال کی عمر میں بھی شادیاں کروانے کے لیے تیار ہیں۔
آخر میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ریاست ان کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔