head lines
ڈگری تنازعہ کیس: جسٹس جہانگیری نے عدالت میں دلائل دیے
جسٹس طارق محمود جہانگیری عدالت میں پیش
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈگری تنازعہ کیس کے دوران جسٹس طارق محمود جہانگیری خود عدالت پیش ہوئے۔
انہوں نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض کیا۔
اطلاعات کے مطابق، جب جسٹس جہانگیری روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے تمام وکلاء کو اپنی نشستوں پر جانے کا کہا۔
چیف جسٹس نے کہا: ’جہانگیری صاحب آئے ہوئے ہیں، آپ سب بیٹھ جائیں۔‘
جسٹس جہانگیری نے اپنے دلائل میں کہا:
’’مجھے رات کو نوٹس ملا ہے، مجھے وقت چاہیے۔ جب آپ قائم مقام چیف جسٹس تھے تو میں نے آپ کے خلاف درخواست دی تھی۔ ضابطہ اخلاق ہے، ہم دونوں جج ہیں۔‘‘
چیف جسٹس نے جواب دیا: ’’ہمارا اس کے خلاف کچھ لینا دینا نہیں ہے۔‘‘
جسٹس جہانگیری نے مؤقف اپنایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہائیکورٹ جج نے ساتھی جج کو نوٹس دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے بھی معاملے کو نہیں سنا، اور مجھے صرف تین دن کا نوٹس دیا گیا۔
جسٹس جہانگیری نے مزید کہا:
’’میری ڈگری جعلی نہیں ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اس کو معطل کیا ہوا ہے۔ میں قرآن پر حلف کے لیے تیار ہوں کہ میری ڈگری اصلی ہے۔ کیس کسی اور جج کو بھیج دیا جائے تاکہ میں مکمل ریکارڈ دیکھ کر دلائل دوں۔‘‘