خاص رپورٹ
معرکۂ حق کے بعد بھارتی عسکری قیادت دباؤ کا شکار
معرکۂ حق میں شکست کے بعد بھارتی عسکری قیادت کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
اس صورتحال نے خطے میں عسکری توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کو سفارتی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
اسی تناظر میں فیلڈ مارشل کی عالمی پذیرائی بھی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔
بھارتی عسکری قیادت پر بڑھتا دباؤ
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق بھارتی عسکری قیادت اس وقت واضح دباؤ میں ہے۔
اسی لیے، داخلی سطح پر تاثر بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، عسکری قیادت میڈیا میں غیر معمولی سرگرمی دکھا رہی ہے۔
تاہم، یہ اقدامات سنجیدہ دفاعی حکمتِ عملی سے ہٹ کر دکھائی دیتے ہیں۔
میڈیا سرگرمیاں اور عوامی تاثر
بھارتی عسکری قیادت مختلف تقریبات میں نمایاں موجودگی اختیار کر رہی ہے۔
مزید یہ کہ مذہبی اور نمائشی سرگرمیوں کو بھی میڈیا میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کا مقصد عوامی مقبولیت حاصل کرنا ہے۔
تاہم، ان اقدامات سے عسکری پیشہ ورانہ وقار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پاسنگ آؤٹ پریڈز پر تنقید
حالیہ پاسنگ آؤٹ پریڈز کے دوران عسکری قیادت کے بعض اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
مثال کے طور پر، پریڈ گراؤنڈ میں غیر روایتی حرکات کو غیر ضروری قرار دیا گیا۔
اسی طرح، فضائیہ کی تقریبات میں اعلیٰ قیادت کی نمایاں شرکت پر بھی تنقید ہوئی۔
ناقدین کے مطابق، یہ اقدامات عسکری نظم و ضبط سے مطابقت نہیں رکھتے۔
پیشہ ورانہ ساکھ پر اثرات
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نمائشی سرگرمیاں ادارہ جاتی وقار کو متاثر کرتی ہیں۔
نتیجتاً، عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، کسی بھی فوج کے لیے سنجیدگی اور عملی صلاحیت بنیادی ستون ہوتے ہیں۔
اسی لیے، عسکری قیادت سے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع کی جاتی ہے۔