news
ورلڈ کلچر فیسٹیول میں فنون، تھیٹر، اور ڈانس کی رنگارنگ سرگرمیاں
کراچی میں جاری ورلڈ کلچر فیسٹیول کا چوتھا روز فن اور ثقافت کے نام رہا۔ شہر بھر میں فنون کے دلدادہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نوجوان فنکاروں اور بین الاقوامی مہمانوں نے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اس فیسٹیول کا مقصد دنیا بھر کے فنونِ لطیفہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے، تاکہ ثقافتی رابطے مضبوط ہوں۔
📌 تھیٹر ورکشاپ — ورلڈ کلچر فیسٹیول کا اہم حصہ
دن کا آغاز فرانس کے معروف تھیٹر گروپ Cirk Biz’Art کی خصوصی تھیٹر ورکشاپ سے ہوا۔ فرانسیسی اداکاروں کے ساتھ پاکستانی ہدایتکار خالد احمد نے بھی حصہ لیا۔ فنکاروں نے تھیٹر کی ٹیکنیک، ڈائیلاگ ڈیلیوری، اور اسٹیج موومنٹ پر رہنمائی فراہم کی۔
آرٹس کونسل کے طلبہ نے پرفارمنس پیش کی، جسے فرانسیسی اداکاروں نے بھرپور سراہا۔ ان کے مطابق سنجیدہ تھیٹر کو دلچسپ بنانے کے لیے تخلیقی اظہار اور جسمانی حرکات بہت اہم ہیں۔ ورلڈ کلچر فیسٹیول میں ایسے تبادلے نوجوان فنکاروں کے لیے بڑی تربیت ثابت ہو رہے ہیں۔
📌 آرٹ، ڈیزائننگ اور ویژول پروگرام
دوپہر 2 بجے بنگلا دیش سے آئی ہوئی ڈیزائنر نہاریکا ممتاز نے جیولری اور ٹیکسٹائل ڈیزائننگ پر اپنی پریزنٹیشن می اینڈ مائی ورک پیش کی۔ شرکا نے سوال جواب کیے اور ڈیزائننگ کے نئے رجحانات پر گفتگو کی۔
اسی وقت ویژول آرٹ پر مبنی پروگرام آرٹ ایز آ برج منعقد ہوا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آئی ہوئی آرٹسٹ کمیونٹی نے اپنی تخلیقات، روایتی آرٹ، اور ثقافتی رنگوں پر روشنی ڈالی۔ ورلڈ کلچر فیسٹیول کے اس حصے نے فنکاروں کو ایک مضبوط نیٹ ورک فراہم کیا۔
📌 فلم، ڈانس اور تھیٹر
شام 4 بجے ثقافتی فلم اسکریننگ کا آغاز ہوا۔ ان فلموں میں مختلف معاشروں کے سماجی رویے، تاریخ، موسیقی اور ثقافتی ورثہ شامل تھے۔
شام 5 بجے کانگو کے اسٹریٹ ڈانسرز نے اپنی ورکشاپ پیش کی۔ نوجوانوں کو انٹرایکٹو انداز میں تربیت دی گئی۔
رات 8 بجے عراقی تھیٹر گروپ نے ڈرامہ پیش کیا، جسے شائقین نے بے حد پسند کیا۔
ورلڈ کلچر فیسٹیول کے دوران عالمی فن، سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی تبادلے کی شاندار مثال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مزید سرگرمیاں آنے والے دنوں میں بھی جاری رہیں گی۔