Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اسلام آباد ہائی کورٹ: چیف کمشنر اور ڈی سی عوام کے لیے بھی کام کریں

news

اسلام آباد ہائی کورٹ: چیف کمشنر اور ڈی سی عوام کے لیے بھی کام کریں

Published

on

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹوار خانوں میں نجی افراد کے کام کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر صرف حکومت یا اداروں کے لیے نہیں، عوام کے لیے بھی کام کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “سوائے عوام کے ہر کسی کے لیے کام ہو جاتا ہے، عام شہریوں کو صرف ٹالا جاتا ہے۔ اگر عوام کا کام نہیں کر سکتے تو صاف انکار کر دیں، پھر ہم اسلام آباد ہائیکورٹ سے حکم جاری کریں گے۔”

جسٹس کیانی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پٹواریوں کی خالی پوسٹیں پر کرنے کی منظوری تو دی جا چکی ہے، لیکن وزارت خزانہ ابھی تک فنڈز جاری کرنے پر تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے نیچے سے اوپر تک کوئی ذمے داری لینے کو تیار نہیں، شاید اب وزیر کو عدالت بلانا پڑے گا۔

سماعت کے دوران اسٹیٹ کونسل عبد الرحمان نے اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت داخلہ کی مشترکہ رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ پٹوار خانوں میں 35 خالی آسامیوں کی منظوری دی جا چکی ہے، مگر وزارت خزانہ نے تاحال ان کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے۔ عدالت نے سرکاری اداروں کی اس سست روی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version