Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
شکیل صدیقی کی فیملی ولاگنگ پر تنقید

news

شکیل صدیقی کی فیملی ولاگنگ پر تنقید

Published

on

معروف مزاح نگار اور اداکار شکیل صدیقی نے حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں پاکستان میں بڑھتے ہوئے فیملی ولاگنگ کے رجحان پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفریح کے نام پر ماؤں اور بہنوں کی غیر ضروری نمائش کی جا رہی ہے، جو اخلاقی حدود کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاتون کو گھر کے کچن میں کھانا بناتے ہوئے دکھایا جائے تو یہ بات قابل قبول ہے، مگر موجودہ ولاگنگ اس سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ انہوں نے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کا 12 سالہ بیٹا بھی یہ ولاگز دیکھتا ہے، جس پر وہ سخت پریشان ہوتے ہیں اور اس کے موبائل فون کا استعمال محدود کر دیتے ہیں۔ شکیل صدیقی نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال پر بھی بات کی اور کہا کہ اگر کراچی کو شروع سے سینٹر بنایا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔ ناقص ڈبنگ اور غیر پیشہ ورانہ پروڈکشن کو انہوں نے انڈسٹری کی تباہی کی بڑی وجوہات میں شمار کیا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ پاکستان میں کامیڈینز کی عزت نہیں ہوتی، اور کہا کہ انہیں اپنے وطن سے بے پناہ محبت اور عالمی سطح پر مواقع ملے۔ انہوں نے آخر میں اعتراف کیا کہ کیریئر کے کچھ فیصلے، خاص طور پر ٹی وی پر معیار سے ہٹ کر کام، مجبوری میں کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version