news
پاکستان نے AI کے عسکری استعمال پر اقوام متحدہ میں وارننگ دی
وزیر دفاع پاکستان خواجہ آصف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا غیر ذمہ دارانہ اور عسکری استعمال آئندہ جنگوں کو نہایت خطرناک اور تباہ کن بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ AI کی برق رفتار ترقی دنیا کو بدل رہی ہے، مگر اگر اسے کسی عالمی اصولی و قانونی فریم ورک کے تحت محدود نہ کیا گیا تو یہ ٹیکنالوجی امن و ترقی کی بجائے عالمی انتشار، بداعتمادی اور عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جھوٹی معلومات کا پھیلاؤ، سائبر حملے، اور خودکار ہتھیاروں کی تخلیق جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی 2025 میں اپنی پہلی قومی AI پالیسی متعارف کرائی ہے جس کا مقصد محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر، ایک ملین افراد کی تربیت، اور AI کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت کی جانب سے خودکار ہتھیاروں اور دوہری نوعیت کے کروز میزائلوں کا استعمال ایک تشویشناک رجحان ہے۔ اس سے جنگ کے امکانات میں اضافہ اور سفارتی حل کی گنجائش میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
وزیر دفاع نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کو AI پر مکمل لاگو کیا جائے، اور انسانی کنٹرول کے بغیر اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو AI ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی دینے اور اس ٹیکنالوجی کو کسی قسم کی اجارہ داری کا ذریعہ نہ بنانے کی اپیل کی۔
خواجہ آصف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 78/311 کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر ایک منصفانہ، شفاف اور قانون پر مبنی نظام کے تحت مصنوعی ذہانت کو صرف امن، ترقی اور انسانی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔