news

وزیراعلیٰ سندھ: سیلاب سے کسان متاثر

Published

on


وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر مدد فراہم نہ کی گئی تو ملک کو فوڈ سکیورٹی کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کسانوں کے نقصانات کا فوری حل نکالنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر خوراک کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تجویز پر نوٹس لیتے ہوئے ملک بھر میں ایگریکلچرل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور وفاقی سطح پر ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں تمام صوبوں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ کمیٹی کسانوں کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کے لیے مربوط اقدامات کرے گی۔

مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت نے کسانوں کی مدد کے لیے ایک خصوصی امدادی پیکج کا خاکہ تیار کر لیا ہے، جس کی تفصیلات اگلے ہفتے جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کا وژن تھا کہ اقوام متحدہ کی سطح پر فلیش اپیل کی جائے، اور اس تجویز پر گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والی میٹنگ میں تمام صوبوں نے اتفاق کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سیلاب کے آغاز سے ہی حکومت نے اقدامات کا آغاز کر دیا تھا، جن میں لوگوں کی جان بچانا، بیراجوں کا تحفظ اور بندوں کو مضبوط کرنا شامل تھا۔ اس وقت گڈو بیراج سے سیلابی ریلا گزر چکا ہے اور اب سکھر بیراج پر پانی کی سطح بلند ہے، لیکن توقع ہے کہ آج سے وہاں بھی بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب پانی سکھر سے کوٹری کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں مقامی نمائندے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیمیں موجود ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی آنے کی پیش گوئی کے مطابق حکومت سندھ نے اپنی تیاری مکمل رکھی اور تمام متعلقہ اداروں نے بہترین تعاون کیا، جس پر وہ شکر گزار ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version