news
استاد امانت علی خان کو بچھڑے 51 سال گزر گئے، فن آج بھی زندہ
برصغیر کے عظیم کلاسیکل گلوکار اور پٹیالہ گھرانے کے مایہ ناز فنکار استاد امانت علی خان کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 51 برس گزر چکے ہیں، مگر ان کا فن آج بھی زندہ ہے اور ان کی گائی ہوئی غزلیں و نغمے سننے والوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ امانت علی خان 1922 میں ہوشیار پور میں پیدا ہوئے اور موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اُستاد اختر حسین خان سے حاصل کی۔ وہ پٹیالہ گھرانے کے بانی علی بخش جرنیل کے پوتے اور معروف گلوکار استاد فتح علی خان کے بھائی تھے۔ دونوں بھائیوں نے مل کر گائیکی میں ایک نئی روح پھونکی اور بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔
قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان لاہور آ گئے، جہاں انہوں نے ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور کلاسیکل و نیم کلاسیکی موسیقی میں ایک منفرد اور قابلِ احترام مقام حاصل کیا۔ ان کے مشہور گیتوں میں ’ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے‘، ’چاند میری زمیں پھول میرا وطن‘ اور ’یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے‘ آج بھی بے حد مقبول ہیں۔
استاد امانت علی خان کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ وہ 17 ستمبر 1974 کو صرف 52 برس کی عمر میں وفات پا گئے، لیکن ان کی موسیقی اور اندازِ گائیکی آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔