news
خواجہ آصف: قطر واقعہ امریکا کی مرضی سے ہوا
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں جو کچھ ہوا وہ امریکا کی مرضی سے ہوا، اور یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اسرائیل امریکا کا تابع ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا، اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل امریکا کا نہیں بلکہ امریکا اسرائیل کا “پراڈکٹ” ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی تل ابیب اشارہ کرے گا، امریکا دوبارہ اسی انداز میں کارروائی کرے گا، چاہے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی کہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا کو نیٹو کی طرز پر ایک ایسا دفاعی اتحاد تشکیل دینا چاہیے جو جارحیت کے خلاف نہ ہو بلکہ دفاع کے لیے ہو۔ انہوں نے قطر میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کو حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ پوری مسلم قیادت کی موجودگی کے باوجود فوری ردعمل کی توقع قبل از وقت ہے۔
خواجہ آصف نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے انکشاف کیا کہ وہ “میڈ ان یو ایس اے” تھا، جسے سوڈان سے سی آئی اے کی مرضی سے جنرل ضیاء کے پاس لایا گیا تاکہ وہ افغانستان میں جہاد کی قیادت کرے۔ ان کے بقول، اسامہ کا جہاد دراصل امریکا کے تحفظ کے لیے لانچ کیا گیا تھا، اس کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس کے رہنما قطر میں امریکا کی رضا مندی سے موجود تھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قطر کی سیاست اور فلسطین سے متعلق معاملات بھی واشنگٹن کی نگرانی میں چلتے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق، مسلم دنیا کو اس خوش فہمی سے نکلنا ہوگا کہ امریکا مسلم مفادات کا تحفظ کرے گا؛ درحقیقت، امریکا اور اسرائیل ایک ہی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔