news
اقوام متحدہ کی قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں ارکان نے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مکمل حمایت کا اعلان کیا اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے فوری خاتمے پر زور دیا۔ سلامتی کونسل نے قطر، مصر اور امریکہ کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی سفارتی کوششیں خطے میں امن قائم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں، خصوصاً غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے تناظر میں۔
اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور، روزمیری ڈی کارلو نے دوحہ میں 9 ستمبر کو کیے گئے اسرائیلی حملے کو خطے میں کشیدگی میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ثالثی کے عمل کو نقصان پہنچایا گیا تو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب مزید دور ہو جائے گا۔ حملے میں اگرچہ حماس کی اعلیٰ قیادت محفوظ رہی، تاہم چھ افراد جان کی بازی ہار گئے، اور غزہ میں جنگ بندی و یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکراتی عمل شدید متاثر ہوا۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اسرائیل نے اکیلے انجام دی، جبکہ قطر، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور خلیج تعاون کونسل سمیت عالمی اداروں نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ روزمیری ڈی کارلو نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل، مکالمے اور ثالثی کی راہوں کو جاری رکھنے کی اپیل کی تاکہ جنگی صورتحال ختم کی جا سکے اور غزہ کے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔