news
بیرسٹر گوہر : عوام پر سختیاں بنگلادیش اور نیپال جیسے انجام تک لے جاتی ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عوام پر سختیاں کرنے والے ملک وہی انجام دیکھتے ہیں جو بنگلادیش اور نیپال جیسے ممالک نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور جب حکومتی رویہ سخت ہو جائے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں، جو بالآخر ریاستی نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ریاست پر قابض ہوتے ہیں، ان کا انجام ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے عدلیہ کی آزادی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز خود شاکی ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کو آزاد عدلیہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ اس ترمیم نے عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس ترمیم کے خلاف اپیلیں دائر ہو چکی ہیں، جنہیں سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کے ارکان کو غیر قانونی طریقے سے سزائیں سنائی گئیں اور سیاسی ماحول کو دانستہ طور پر تناؤ کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام کی خاطر قید میں ہیں اور تحریک انصاف اداروں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے، لیکن ان پر دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔
گوہر علی خان نے پنجاب میں سیلاب متاثرین کے حالات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ متاثرہ افراد کو وہ سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں جو ان کا حق ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی تناؤ ختم نہ ہوا تو ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “میری دعا ہے کہ یہ سختیاں ختم ہوں اور ملک درست راستے پر چل پڑے