news
ایمان مزاری اور چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماہرنگ بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی، جب چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور وکیل ایمان مزاری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ اس کیس میں کوئی حکم جاری کریں گے تو ایمان مزاری بعد میں جا کر ٹی وی پروگرام میں انہیں “ڈکٹیٹر” قرار دیں گی۔ اس پر ایمان مزاری نے جواب دیا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو قانون سے باہر ہو۔ چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی ادب کے دائرے میں بات کرنی چاہیے اور اپنے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
ایمان مزاری نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی باتیں ذاتی حیثیت میں تھیں اور ان کا اثر ان کے مؤکل کے کیس پر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدالت کو ان سے کوئی ذاتی مسئلہ ہے تو اس کا اثر ان کے مؤکل کے حقوق پر نہیں پڑنا چاہیے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے ایمان مزاری کی جانب سے جج کو “ڈکٹیٹر” کہنے کا تبصرہ سنا ہے اور اس پر توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ایمان مزاری نے اس پر کہا کہ انہوں نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے آزادی اظہار رائے کا استعمال کیا ہے، اور اگر عدالت توہین عدالت کی کارروائی کرنا چاہتی ہے تو وہ تیار ہیں۔ اس دوران چیف جسٹس نے ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی سے مخاطب ہو کر کہا کہ “سمجھائیں اسے، کسی دن میں نے پکڑ لیا ناں”، جس پر ایمان مزاری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں وکلاء کو دھمکیاں دینے لگیں تو بہتر ہے کارروائی کی جائے۔
اس کشیدہ صورتحال میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مداخلت کرتے ہوئے عدالت کی توجہ کیس کی جانب مبذول کرائی اور مؤقف اختیار کیا کہ ماہرنگ بلوچ کو پہلے کابینہ کی سب کمیٹی سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ عدالت نے تمام وکلاء کو متعلقہ رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی