news
دریائے چناب اور ستلج میں شدید سیلابی ریلا
محکمہ موسمیات نے دریائے چناب میں دوسرے بڑے سیلابی ریلے کی آمد پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ جاری بیان کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ اور اس کے ڈاؤن اسٹریم مقامات پر آج سے ایک نئی اور غیر معمولی اونچی سیلابی لہر متوقع ہے۔ اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بھی شدید سیلاب جاری ہے۔ پنجند کے مقام پر دریائے چناب میں 4 سے 5 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا اندیشہ ہے، جبکہ گڈو بیراج پر دریائے سندھ میں 6 سے 7 ستمبر کے دوران پانی کی سطح اونچے سے انتہائی اونچے درجے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مون سون کا سسٹم کمزور پڑنے کا امکان ہے۔
ادھر بھارت نے ایک بار پھر سفارتی سطح پر پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور دریائے ستلج میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ وزارت آبی وسائل نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن نے الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فیروز پور اور ہریک کے مقامات پر دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، جبکہ دریائے توی میں جموں کے مقام پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اطلاع پر وزارت آبی وسائل نے فوری ردعمل دیتے ہوئے 28 اہم محکموں کو الرٹ کر دیا اور حفاظتی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال تاحال برقرار ہے۔ خانیوال کی تحصیل کبیروالہ کے علاقے عبدالحکیم میں دریائے راوی پر ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہاں پانی کے اخراج کی گنجائش ڈیڑھ لاکھ کیوسک ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ حد پار کر گئی ہے، جس کے باعث حفاظتی اقدامات کے طور پر پیر محل کے قریب مائی صفوراں بند کو دو مقامات سے توڑ دیا گیا ہے تاکہ ہیڈ سدھنائی کو بچایا جا سکے۔
اسی طرح دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث لودھراں اور بہاولپور کے تین بند بھی ٹوٹ چکے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ حکام کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے اور ہنگامی اقدامات میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔