news
وزیر اعظم شہباز شریف کا موسمیاتی تبدیلی اور آبی ذخائر پر اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کا فیصلہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں موسمیاتی تبدیلی اور مون سون کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں ایک جامع اور مؤثر پالیسی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے ہنگامی صورتحال سے نکلتے ہی اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کی ہدایت دی ہے، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندگان، اور متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ایک ورکنگ پیپر تیار کیا جا رہا ہے جو تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ ایک مشترکہ قومی لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔ اس لائحہ عمل میں آبی ذخائر کی تعمیر، پانی کے انتظام، اور موسمیاتی آفات سے بچاؤ کے جامع اقدامات شامل ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ:
- موسمیاتی تبدیلی اب ایک تلخ حقیقت ہے، جس کے اثرات ہر سال بڑھتے جا رہے ہیں۔
- ان اثرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاق، چاروں صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
- آبی ذخائر اور ڈیمز کی تعمیر کو بین الصوبائی مشاورت اور مکمل ہم آہنگی سے عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ “قدرتی آفات سے نقصانات کم کرنے کا واحد راستہ بروقت منصوبہ بندی، تیاری اور مربوط حکمت عملی ہے۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، اور ہمیں مل کر اس چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔”
اجلاس میں درج ذیل نکات پر گفتگو اور پالیسی سازی متوقع ہے:
- موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی
- چھوٹے اور بڑے آبی ذخائر کی منصوبہ بندی
- بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی پالیسی
- وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کے اصول
- عالمی اداروں سے ممکنہ مالی معاونت کے ذرائع
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب ملک شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہے، اور لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم کا یہ فیصلہ ملکی سطح پر موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم چیلنج سے نمٹنے کے لیے مرکزی قیادت اور ادارہ جاتی یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔