news
ایف بی آر اصلاحات سے ٹیکس نظام میں بہتری، وزیرِاعظم شہباز شریف
وزیرِاعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جاری اصلاحات اور ان کے مثبت اثرات پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نظام میں بہتری خوش آئند ہے، تاہم اہداف کے مستقل حصول کے لیے مزید محنت درکار ہے۔ وزیرِاعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ان کی زیر صدارت ایف بی کی اصلاحات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ وزراء، چیئرمین ایف بی آر اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایف بی آر کی کارکردگی، انفورسمنٹ اقدامات، اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے تجویز کردہ آئندہ کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں 1.5 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا ہے، اور ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 45 لاکھ سے بڑھ کر 72 لاکھ ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم کی بدولت ٹیکس آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور کلیئرنس وقت 52 گھنٹے سے گھٹا کر 12 گھنٹے تک کرنے کا ہدف ہے۔ ریٹیل سیکٹر سے بھی اضافی 455 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایف بی آر کے نظام میں پوائنٹ آف سیلز اور دیگر ڈیجیٹل اقدامات کے باعث ٹیکس نظام زیادہ مؤثر ہوا ہے، جبکہ درآمدات پر ویٹڈ ایوریج ٹیرف میں 2.16 فیصد کمی سے صنعتی شعبے کو ریلیف ملا ہے۔
وزیرِاعظم نے ڈیجیٹائزیشن، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، اور اصلاحاتی عمل میں کاروباری طبقے کی سہولت کو ترجیح دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ایف بی آر حکام کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر رسمی معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس نظام کو پائیدار بنانے کے لیے ایک جامع اور وقت سے جڑا لائحہ عمل تیار کیا جائے، تاکہ عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو اور قومی آمدن میں شفاف طریقے سے اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔