news

لاہور میں کلینک آن وہیل پروگرام میں بوگس مریضوں کی انٹری کا انکشاف

Published

on

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں محکمہ صحت کے کلینک آن وہیل پروگرام میں مریضوں کی جعلی انٹریوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کلینک آن وہیل کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آفیسر ڈاکٹر میاں زبیر کی جانب سے ایک آڈیو میسج میں عملے کو فیک انٹریاں طریقے سے کروانے کی ہدایت دی گئی۔ 13 سیکنڈ کے اس وائس میسج میں واضح طور پر کہا گیا کہ “چالیس، پچاس، ساٹھ کیس کہیں نہیں گئے، جو اصلی مریض آتے ہیں ان کی ڈبل انٹری کرتے رہیں، اور کچھ نہیں کرنا۔” یہ آڈیو میسج ایک واٹس ایپ گروپ “COW Cell Persons” میں شیئر کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، لاہور یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کلینک آن وہیل میں یومیہ مریضوں کی تعداد کم رپورٹ ہونے لگی جس پر پیرامیڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹروں کو نوٹسز جاری کیے گئے اور بعد ازاں جعلی انٹریوں کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اس معاملے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جعلی انٹریوں کی یہ ہدایات کس کے کہنے پر دی گئیں اور اصل محرکات کیا تھے، جس کا جواب ممکنہ طور پر جاری تحقیقات کے بعد سامنے آئے گا۔

اسی ضمن میں صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کی جانب سے بھی ایک پیغام جاری کیا گیا جس میں انہوں نے بوگس انٹری پر سخت نوٹس لینے اور کارروائی کی ہدایت کی۔ تاہم ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ جعلی انٹریوں کی آڑ میں میڈیسن چوری کی جا رہی ہے کیونکہ جعلی مریضوں کی تعداد کے برابر دوائیاں بھی “غائب” کی جاتی ہیں۔ اس تمام معاملے پر سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر آصف خان نیازی کا مؤقف سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے فیک انٹریوں کے الزامات کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مریضوں کی انٹریوں کی سختی سے نگرانی کی جا رہی ہے اور کوئی جعلی کارروائی نہیں کی جا رہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version