news
بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل: والدہ نے بیٹی کے قتل کو جائز قرار
بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خاتون بانو کی والدہ کا ایک متنازعہ ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کے قتل کو بلوچی روایت کے مطابق جائز اور ‘سزا’ قرار دیا ہے۔ گل جان نامی خاتون نے خود کو مقتولہ بانو کی حقیقی والدہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر کسی کو شک ہے تو وہ ڈی این اے ٹیسٹ کروا سکتا ہے۔ بلوچستان ویڈیو میں انہوں نے قرآن پاک اٹھا کر اپنی بات کو سچ قرار دیا۔
گل جان کے مطابق، بانو پانچ بچوں کی ماں تھی اور وہ اپنے پڑوسی احسان اللہ کے ساتھ 25 دن تک گھر سے غائب رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانو کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے معاف کر دیا تھا، لیکن احسان اللہ مبینہ طور پر دھمکی آمیز ویڈیوز اور پیغامات بھیجتا رہا جس سے خاندان کی “عزت” مجروح ہوئی۔ گل جان نے دعویٰ کیا کہ “اتنی بے غیرتی” کو برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا، اور انہوں نے جو کیا وہ بلوچ غیرت کے مطابق “صحیح” کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قتل گناہ نہیں بلکہ بلوچ رسم کے تحت “انصاف” تھا۔
خاتون نے قبیلے کے سردار سرفراز بگٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر پر چھاپے غیر ضروری تھے، اور سردار شیر باز ساتکزئی سمیت گرفتار تمام افراد کو رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مقامی بلوچی جرگے کا تھا اور کسی سردار کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔
دوسری جانب سردار شیرباز خان ساتکزئی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی سربراہی میں کوئی جرگہ منعقد نہیں ہوا، اور یہ فیصلہ گاؤں کی سطح پر چند افراد نے خود سے کیا تھا۔
یہ واقعہ انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کا باعث بن رہا ہے، جہاں خواتین کے تحفظ اور قانون کی عملداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں