news
پاکستان کی عالمی امن قرارداد سلامتی کونسل سے متفقہ منظور
عالمی امن کے فروغ اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت پیش کی گئی اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم کے تحت دنیا بھر کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے سفارتی مکالمے، ثالثی، اعتماد سازی کے اقدامات اور دیگر پُرامن ذرائع اپنائیں۔ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں مختلف ممالک سے سفارتی روابط قائم کیے، جس کے نتیجے میں مستقل اور غیر مستقل تمام ارکان نے اس قرارداد پر اتفاق کیا۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے پانچ نکاتی مؤقف پیش کیا جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر پر مکمل عملدرآمد، تمام قراردادوں پر مساوی اطلاق، علاقائی شراکت داری کا فروغ، سیکرٹری جنرل کے دفتر کا مؤثر کردار، اور دو طرفہ مذاکرات سے انکار کی صورت میں اقوام متحدہ کی مداخلت شامل تھی۔ انہوں نے قرارداد کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے قدیم ترین حل طلب مسائل میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی بھارت کی جانب سے یکطرفہ معطلی پر بھی شدید تنقید کی۔
غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک 58 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر قرار دیا جس کی سرحدیں 1967ء سے قبل کی ہوں اور القدس اس کا دارالحکومت ہو۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی، دہرے معیار اور انسانی حقوق کے سیاسی استعمال کو اقوام متحدہ کی ساکھ کے لیے خطرہ قرار دیا اور مقبوضہ کشمیر و فلسطین کی صورتحال کو اس کی واضح مثالیں قرار دیا