Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
عافیہ صدیقی کیس: وزیراعظم و کابینہ کو توہین عدالت کا نوٹس

news

عافیہ صدیقی کیس: وزیراعظم و کابینہ کو توہین عدالت کا نوٹس

Published

on

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پر وزیراعظم سمیت وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز اسحاق نے واضح کیا کہ وہ چھٹیوں کے باوجود کیس کو اہمیت دیتے ہوئے عدالت میں پیش ہوئے، مگر حکومت کی جانب سے رپورٹ جمع نہ کرانا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو کارروائی ضرور ہو گی، کیونکہ عافیہ صدیقی کیس ایک غیر معمولی نوعیت کا معاملہ ہے۔

سماعت میں وکیل عمران شفیق نے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ حکومت اگر اسٹے آرڈر لینا چاہتی تو سپریم کورٹ میں بنچ فوری بن جاتا، مگر موجودہ حالات میں جسٹس منصور علی شاہ کی موجودگی میں کیس کی سماعت ممکن نہیں۔ اس پر جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیے کہ چیف جسٹس آفس نے روستر میں تبدیلی کی، اور اہم کاز لسٹ تک روک دی گئی، جو عدالتی انتظامیہ کی جانب سے انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدلیہ کی عزت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے جوڈیشل اختیارات استعمال کریں گے، اور کسی انتظامی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ چھٹیوں کے بعد پہلے ہی ورکنگ ڈے پر کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version