Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران خالی کرنے کی وارننگ

news

ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران خالی کرنے کی وارننگ

Published

on

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیشِ نظر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو تہران فوری خالی کرنے کی ہنگامی وارننگ جاری کر دی ہے۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران میں انسانی جانوں کا ضیاع شرمناک ہوگا، لہٰذا شہر کے تمام افراد کو فوری طور پر انخلاء کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کر دینے چاہییں تھے، میں نے کئی بار انہیں خبردار کیا لیکن انہوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا، اور اب صورتحال نازک رخ اختیار کر چکی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کسی صورت نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

ٹرمپ کی وارننگ کے بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ مشرقی تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ پریس ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ ایک مقام پر اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایرانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کر دی گئی ہے، جو اب مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے تک برقرار رہے گی تاکہ پروازوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر لگاتار حملے کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے فضائی سفر شدید متاثر ہے اور مسافر پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال غیرمعمولی حد تک سنگین ہو چکی ہے اور عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رہ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version