news
کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی: چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل
لاہور پولیس کی طرف سے اے ایس پی شہر بانو نےکالج میں طالبہ سے زیادتی کے مبینہ واقعہ پر ثبوت فراہم کرنے کی اپیل کر دی
اے ایس پی شہر بانوں نے کہا کہ ہمارے پاس مبینہ واقعے کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ہے اگر کسی کے پاس ایسی کوئی فوٹیج یا کوئی ثبوت ہے تو وہ سامنے لے کر آئے واقعہ کے حوالے سے جس لڑکی کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ درحقیقت اپنے گھر میں گر ی تھی اس کے ساتھ کسی نے کوئی زیادتی نہیں کی نہ ہی ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے اگر اس کے ساتھ کوئی واقعہ ہوا ہے تو وہ پولیس کو بتائے
نیزاگر پولیس گارڈ کو نہ پکڑتی تب بھی پولیس کو ہی غلط کہا جاتا اس لیے گاڈ کو پکڑا گیا
واضح رہے کہ گزشتہ روز گلبرگ کے ایک پرائیویٹ کالج میں طلبہ کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی خبر سامنے آئی تھی جس پر طالب علموں نے کلاس رومز کا بائیکاٹ کر کے شہر بھر میں احتجاج کیا
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے طلبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کیس کا نوٹس لیتے ہوئے چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی جو کہ 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی
چھ رکنی کمیٹی چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں کام کرے گی کمیٹی کے ممبران میں سیکرٹری داخلہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سیکٹری سپیشل ایجوکیشن سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ہیلتھ کمیٹی کے علاوہ کمیٹی اپنی مدد کے لیے مزید ممبر بھی بنا سکتی ہے
کمیٹی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے حوالے سے ثبوت اکٹھے کرے گی جس میں اساتذہ، انتظامیہ اور کالج کی طالبات کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے نیز کالج انتظامیہ کے رسپانس اور پولیس کے معاملے سے نمٹنے سے متعلق تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے گا
Pingback: ایس سی او 23 واں سربراہی اجلاس: سخت سکیورٹی انتظامات