news

بلوچستان میں 10سالہ مصور کے اغوا پر پہیہ جام ہڑتال

Published

on


کوئٹہ سے اغوا ہونے والے 10 سالہ بچے کی عدم بازیابی کے خلاف آج بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال ہے۔ یہ ہڑتال مغوی بچے کے اہل خانہ، سیاسی جماعتوں، اساتذہ تنظیموں اور ٹرانسپورٹرز کی اپیل پر کی گْئ ہے، اور اس کا مقصد اغوا کے واقعات کے خلاف احتجاج کرنا اور بچے کی فوری بازیابی کا مطالبہ ہے۔

ہڑتال کے باعث بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ این 25 (کوئٹہ چمن قومی شاہراہ)، این 50 (خانوزئی، مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ کے مقامات) اور این 70 (لورالائی، میختر اور راڑہ ہاشم کے مقامات) پر ٹریفک کی آمدورفت معطل ہے۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بھی بند ہے، اور کوئٹہ سے آنے والی چمن پسنجر ٹرین بھی منسوخ کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کوئٹہ چمن سیکشن پر ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل ہو گئی ہے۔

ہڑتال کے دوران کوئٹہ، چمن، کوہلو اور خضدار سمیت مختلف شہروں میں تعلیمی ادارے بند ہیں، اور آج ہونے والے امتحانات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

یہ ہڑتال 10 سالہ بچے مصور کے اغوا کے بعد کی گئی ہے، جسے چند روز قبل اسکول وین سے اغوا کر لیا گیا تھا، اور ابھی تک بچے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اس معاملے پر سپریم کورٹ نے بھی ازخود نوٹس لیا ہے، اور بچوں کے اغوا کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران، عدالت نے کوئٹہ میں بچے کے اغوا کے حوالے سے تحقیقات میں تاخیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے تمام آئی جیز اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا ہے۔

یہ صورتحال بلوچستان میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات اور ریاستی اداروں کی جانب سے فوری کارروائی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version