انٹرنیشنل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عراق کو نوری المالکی پر انتباہ

ڈونلڈ ٹرمپ نوری المالکی کے ممکنہ اقتدار پر سخت مؤقف
ڈونلڈ ٹرمپ نوری المالکی کے ممکنہ دوبارہ اقتدار میں آنے پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
امریکی صدر نے عراق کو واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر نوری المالکی ایک بار پھر وزیراعظم بنے تو امریکا عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شیعہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد، کوآرڈینیشن فریم ورک، نے نوری المالکی کی نامزدگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اس پیش رفت نے واشنگٹن میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر کا سخت پیغام
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ نوری المالکی کے گزشتہ دورِ حکومت میں عراق غربت اور شدید بدامنی کا شکار رہا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے حالات کا دوبارہ سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
مزید یہ کہ ٹرمپ نے کہا اگر نوری المالکی دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکا عراق کی مدد بند کر دے گا۔
ان کے مطابق امریکی حمایت کے بغیر عراق کے لیے ترقی، خوشحالی اور آزادی ممکن نہیں رہے گی۔
ایران کے ساتھ قربت پر امریکی خدشات
امریکی حکام نوری المالکی کو ایران کے زیادہ قریب تصور کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں ان کے ممکنہ اقتدار پر طویل عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا اور ایران کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب عراق میں ایرانی اثر و رسوخ کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
نوری المالکی کا سیاسی پس منظر
نوری المالکی 2006 سے 2014 تک عراق کے وزیراعظم رہے۔
صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ واحد عراقی وزیراعظم ہیں جنہوں نے دو مدتیں مکمل کیں۔
تاہم ان پر اقتدار کو اپنے ہاتھ میں رکھنے، سنی اور کرد آبادی کو نظرانداز کرنے اور ایران کے قریب ہونے کے الزامات لگتے رہے۔
2014 میں داعش کے پھیلاؤ کے بعد امریکا نے ان کی قیادت پر اعتماد کھو دیا تھا۔
امریکی وزیرِ خارجہ کا ردعمل
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی عراق میں ایران نواز حکومت کے خدشے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا سمجھتا ہے کہ ایران کے زیرِ اثر حکومت عراق کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی۔
انٹرنیشنل
ایران پر امریکی حملہ: یو اے ای کا امریکا کو واضح انکار

ایران پر امریکی حملہ کے خدشات کے درمیان متحدہ عرب امارات نے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔
یو اے ای نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی راستے یا سمندری پانی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ابتدائی طور پر اماراتی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ کسی بھی فریق کو لاجسٹیکل سپورٹ فراہم نہیں کی جائے گی۔
اس میں فوجی سامان، سہولت یا کسی بھی قسم کی مدد شامل نہیں ہوگی۔
یو اے ای کا مؤقف اور سرکاری بیان
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی میں ان کا ملک شریک نہیں ہوگا۔
مزید یہ کہ یو اے ای نے کہا کہ موجودہ بحران کا حل صرف کشیدگی میں کمی میں ہے۔
انہوں نے مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمی
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک بڑی امریکی آرماڈا خلیج کی جانب بڑھ رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس تعیناتی کا مرکزی ہدف ایران ہے۔
اس کے علاوہ ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپس، جنگی جہاز اور دفاعی نظام خطے میں بھیجے جا رہے ہیں۔
طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن نے بھی جنوبی بحیرہ چین سے اپنا رخ مشرق وسطیٰ کی جانب موڑ لیا ہے۔
ایران کے اندرونی اقدامات اور رپورٹس
ادھر ایرانی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو زیر زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ قدم ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اٹھایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مقام ایک مضبوط کمپلیکس ہے، جہاں سرنگوں کا مربوط نظام موجود ہے۔
مزید برآں بتایا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مسعود خامنہ ای روزمرہ امور دیکھ رہے ہیں۔
تاہم، ایرانی حکام نے ان رپورٹس کی سرکاری سطح پر تردید کر دی ہے۔
ایران کی سخت وارننگ
ممبئی میں ایران کے جنرل قونصلر نے کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے۔
اسی تناظر میں سپاہ پاسداران انقلاب کے چیف جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ دی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
ان کے مطابق نگاہیں ہدف پر اور انگلیاں ٹرگر پر ہیں۔
علاقائی صورتحال پر ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق ایران پر امریکی حملہ کی صورت میں خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
بالآخر یو اے ای کا فیصلہ علاقائی توازن کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل
افغانستان میں اقوام متحدہ کا اہم دورہ

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل کا افغانستان دورہ آج اہم سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ مکمل ہوا۔
قیامِ امن اور سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کابل میں افغان حکام سے ملاقاتیں کیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سفارتی برادری، خواتین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے افغانستان میں اقوام متحدہ کی خواتین ملازمین سے ملاقات کی۔
مزید برآں، افغان خواتین کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
افغان خواتین پر پابندیوں پر تشویش
روزمیری ڈی کارلو نے افغان حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران خواتین پر عائد پابندیوں کو تشویش ناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر قدغنیں ناقابلِ قبول ہیں۔
اسی لیے خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شمولیت پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے پر زور دیا گیا۔
ان کے مطابق خواتین کے حقوق کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
عالمی برادری سے روابط اور دوحہ عمل
اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل نے افغان حکام کو دوحہ عمل میں مؤثر شرکت کی ترغیب دی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں افغانستان کی واپسی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔
اس موقع پر دونوں فریقین نے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل
انہوں نے سرحد پار انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس سلسلے میں افغان حکام سے مکمل تعاون کی درخواست کی گئی۔
مزید یہ کہ اقوام متحدہ کی مقامی خواتین ملازمین کے کردار کو سراہا گیا۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






