انٹرنیشنل
ایران پر امریکی حملہ: یو اے ای کا امریکا کو واضح انکار

ایران پر امریکی حملہ کے خدشات کے درمیان متحدہ عرب امارات نے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔
یو اے ای نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی راستے یا سمندری پانی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ابتدائی طور پر اماراتی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ کسی بھی فریق کو لاجسٹیکل سپورٹ فراہم نہیں کی جائے گی۔
اس میں فوجی سامان، سہولت یا کسی بھی قسم کی مدد شامل نہیں ہوگی۔
یو اے ای کا مؤقف اور سرکاری بیان
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی میں ان کا ملک شریک نہیں ہوگا۔
مزید یہ کہ یو اے ای نے کہا کہ موجودہ بحران کا حل صرف کشیدگی میں کمی میں ہے۔
انہوں نے مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمی
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک بڑی امریکی آرماڈا خلیج کی جانب بڑھ رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس تعیناتی کا مرکزی ہدف ایران ہے۔
اس کے علاوہ ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپس، جنگی جہاز اور دفاعی نظام خطے میں بھیجے جا رہے ہیں۔
طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن نے بھی جنوبی بحیرہ چین سے اپنا رخ مشرق وسطیٰ کی جانب موڑ لیا ہے۔
ایران کے اندرونی اقدامات اور رپورٹس
ادھر ایرانی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو زیر زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ قدم ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے باعث اٹھایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مقام ایک مضبوط کمپلیکس ہے، جہاں سرنگوں کا مربوط نظام موجود ہے۔
مزید برآں بتایا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مسعود خامنہ ای روزمرہ امور دیکھ رہے ہیں۔
تاہم، ایرانی حکام نے ان رپورٹس کی سرکاری سطح پر تردید کر دی ہے۔
ایران کی سخت وارننگ
ممبئی میں ایران کے جنرل قونصلر نے کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے۔
اسی تناظر میں سپاہ پاسداران انقلاب کے چیف جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ دی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
ان کے مطابق نگاہیں ہدف پر اور انگلیاں ٹرگر پر ہیں۔
علاقائی صورتحال پر ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق ایران پر امریکی حملہ کی صورت میں خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
بالآخر یو اے ای کا فیصلہ علاقائی توازن کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل
افغانستان میں اقوام متحدہ کا اہم دورہ

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل کا افغانستان دورہ آج اہم سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ مکمل ہوا۔
قیامِ امن اور سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کابل میں افغان حکام سے ملاقاتیں کیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سفارتی برادری، خواتین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے افغانستان میں اقوام متحدہ کی خواتین ملازمین سے ملاقات کی۔
مزید برآں، افغان خواتین کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
افغان خواتین پر پابندیوں پر تشویش
روزمیری ڈی کارلو نے افغان حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران خواتین پر عائد پابندیوں کو تشویش ناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر قدغنیں ناقابلِ قبول ہیں۔
اسی لیے خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شمولیت پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے پر زور دیا گیا۔
ان کے مطابق خواتین کے حقوق کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
عالمی برادری سے روابط اور دوحہ عمل
اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل نے افغان حکام کو دوحہ عمل میں مؤثر شرکت کی ترغیب دی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں افغانستان کی واپسی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔
اس موقع پر دونوں فریقین نے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل
انہوں نے سرحد پار انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس سلسلے میں افغان حکام سے مکمل تعاون کی درخواست کی گئی۔
مزید یہ کہ اقوام متحدہ کی مقامی خواتین ملازمین کے کردار کو سراہا گیا۔
news
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، تباہی کا انتباہ

🔴 ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ ایران دھمکی کے معاملے پر امریکی صدر نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکومت نے انہیں قتل کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
🔹 امریکی میڈیا کو انٹرویو
اس حوالے سے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران ایسا قدم اٹھائے گا۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
🔹 پہلے سے تیاری کا دعویٰ
مزید یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس صورتحال کے لیے ایک نوٹیفکیشن پہلے ہی تیار کر رکھا ہے۔
ان کے مطابق، یہ اقدام ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
🔹 قتل کی صورت میں سخت ردعمل
اگرچہ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران ایسا نہیں کرے گا،
لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو امریکا سخت جواب دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں امریکا ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔
اسی لیے انہوں نے اس بیان کو ایک واضح انتباہ قرار دیا۔
🔹 خطے کی صورتحال پر اثرات
نتیجتاً، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔
خصوصاً، امریکا اور ایران کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoوزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






