Connect with us

head lines

بلوچستان میں دہشتگرد ہلاک، دو آپریشنز میں 18 مارے گئے

Published

on

سیکیورٹی فورسز

بلوچستان میں دہشتگرد ہلاک ہونے کی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ تازہ ترین آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز نے دو مختلف علاقوں میں کارروائی کی۔ ان کارروائیوں کے دوران بلوچستان میں دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے۔

بلوچستان میں دہشتگرد ہلاک، چلتن میں بڑا آپریشن

پہلا آپریشن کوئٹہ کے پہاڑی علاقے چلتن میں ہوا۔ سیکیورٹی اداروں کو اطلاعات ملی تھیں کہ دہشتگرد وہاں چھپے ہوئے ہیں۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا اور ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کارروائی کے نتیجے میں بلوچستان میں دہشتگرد ہلاک ہوئے جن کی تعداد 14 بتائی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تمام شدت پسند بھارتی سرپرستی میں سرگرم تھے اور مختلف حملوں میں ملوث تھے۔

کیچ میں کارروائی، مزید دہشتگرد مارے گئے

دوسرا انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیچ کے علاقے بلیدہ میں کیا گیا۔ فورسز نے دہشتگردوں کے ایک اور ٹھکانے کا سراغ لگایا۔ کارروائی کے دوران فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ ہوئی۔ اس دوران بلوچستان میں دہشتگرد ہلاک ہونے کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ بلیدہ کے آپریشن میں 4 خطرناک دہشتگرد مارے گئے اور ان کا مرکز مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

اسلحہ اور بارودی مواد برآمد

آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں کارروائیوں کے بعد اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد ہوا۔ یہ مواد بلوچستان میں مزید حملوں میں استعمال ہونا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد مختلف تخریبی سرگرمیوں، سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھے۔

دہشتگردی کے خلاف آپریشن جاری

سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگرد ہلاک کرنے کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ حکام کے مطابق ہر ایسی سرگرمی کا خاتمہ کیا جائے گا جو ملک کے امن و امان کو متاثر کرے۔ فورسز کا کہنا ہے کہ عوام کا تعاون دہشتگردی کے خلاف اہم ہے اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت کھلنے نہیں دیا جائے گا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

head lines

سپریم کورٹ کا کرایہ داری پر حتمی فیصلہ، نیا اصول طے

Published

on

سپریم کورٹ Pakistan News

سپریم کورٹ کا کرایہ داری سے متعلق واضح فیصلہ

سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ ملک بھر میں کرایہ داری قوانین کو واضح کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خود بخود مالک ہوں گے۔
لہٰذا نیا کرایہ نامہ بنانا ضروری نہیں ہوگا۔

یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کے بے دخلی حکم کے خلاف اپیل پر سنایا گیا۔
دوسری جانب عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
اسی وجہ سے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کرنے کا حکم برقرار رکھا گیا۔

قانونی وارث کو کرایہ ادا کرنا لازم

عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس جاری کیا۔
بعد ازاں کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم کرایہ داروں نے قانونی وارث کو کرایہ ادا نہیں کیا۔

حالانکہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا۔
اس کے باوجود کرایہ متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔
اسی نکتے پر سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ واضح ہو گیا۔

عدالت کا سخت مؤقف

عدالت نے کہا کہ نوٹس کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا درست ادائیگی نہیں۔
چنانچہ قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے۔
اسی بنا پر ایسے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔

مزید یہ کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے کرایہ داروں کا مؤقف مسترد کر دیا گیا۔
نتیجتاً بے دخلی کا حکم برقرار رکھا گیا۔

مستقبل کے مقدمات کے لیے اہم نظیر

سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ آئندہ مقدمات کے لیے ایک مضبوط قانونی مثال ہے۔
اس فیصلے سے قانونی وارثوں کے حقوق محفوظ ہو گئے ہیں۔
ساتھ ہی کرایہ داری قوانین میں موجود ابہام بھی ختم ہو گیا ہے۔

آخر میں عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یوں یہ فیصلہ مالکان اور کرایہ داروں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

Continue Reading

head lines

مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

Published

on

مری میں برفباری

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~