کاروبار
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 4 ہزار پوائنٹس کی بڑی مندی، سرمایہ کار پریشان

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں 4 ہزار پوائنٹس سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن مارکیٹ میں 1711 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ ٹریڈنگ کا آغاز ہوا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس کم ہو کر 1,61,386 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ بعد ازاں بھی جاری رہا اور انڈیکس میں مسلسل 1237، 2593، 3848 اور 4130 پوائنٹس تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,58,967 پوائنٹس پر بند ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں اس شدید مندی کی وجہ معاشی غیر یقینی، روپے کی گرتی قدر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ہے۔
سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر معاشی اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں استحکام واپس لایا جا سکے۔
news
بجلی صارفین کیلئے بری خبر، فی یونٹ قیمت بڑھنے کا امکان

بجلی قیمت میں اضافہ: فی یونٹ 48 پیسے بڑھنے کا امکان
بجلی قیمت میں اضافہ سے متعلق اہم خبر سامنے آ گئی ہے۔
ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر مہنگائی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
یہ اضافہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں متوقع ہے۔
نیپرا میں سی پی پی اے کی درخواست
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی ہے۔
اس درخواست پر نیپرا اتھارٹی کل سماعت کرے گی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ماہ دسمبر کے دوران مجموعی طور پر 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔
اسی عرصے میں ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔
پیداواری لاگت اور ایندھن کا تناسب
سی پی پی اے کے مطابق دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔
مزید تفصیلات کے مطابق بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کا حصہ نمایاں رہا۔
ہائیڈل ذرائع سے 18.07 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 13.99 فیصد رہی۔
درآمدی ایندھن اور نیوکلیئر بجلی
درآمدی کوئلے سے 10.13 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار 11.20 فیصد رہی، جبکہ درآمدی گیس سے 17.24 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔
اس کے علاوہ نیوکلیئر ذرائع سے دسمبر کے دوران 25.05 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جو مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ ہے۔
صارفین کیلئے ممکنہ اثرات
اگر نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست منظور کر لی تو بجلی صارفین کو آئندہ ماہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بجلی کے بلوں میں فوری اثر ڈالتی ہے، جس سے گھریلو اور کمرشل صارفین دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
کاروبار
گورنر سٹیٹ بینک: نئے کرنسی نوٹ کی تیاری آخری مراحل میں

نئے کرنسی نوٹ سے متعلق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک اہم پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق ملک میں نئے کرنسی نوٹ کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بات مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔
ابتدائی طور پر انہوں نے واضح کیا کہ نئے ڈیزائن کے نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
نئے کرنسی نوٹ اور وفاقی کابینہ کی منظوری
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹ کے ڈیزائن پہلے ہی وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔
اب کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی تیاری کا تکنیکی عمل خاصا آگے بڑھ چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی خصوصیات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
نئے کرنسی نوٹ کی چھپائی کا مرحلہ
جمیل احمد نے کہا کہ منظوری کے بعد دو سے تین مختلف مالیت کے نئے کرنسی نوٹ کی چھپائی شروع ہوگی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تمام مالیت کے نوٹس ایک ساتھ جاری نہیں کیے جائیں گے۔
مرکزی بینک کا مؤقف ہے کہ چھپائی مرحلہ وار کی جائے گی۔
اسی لیے نئے نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
نئے کرنسی نوٹ کب مارکیٹ میں آئیں گے؟
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹ اس وقت گردش میں لائے جائیں گے جب مناسب سٹاک دستیاب ہوگا۔
بعد ازاں موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد مارکیٹ میں کسی قسم کی بے چینی یا قلت سے بچاؤ ہے۔
لہٰذا پرانے اور نئے نوٹس کچھ عرصے تک ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






