Connect with us

کاروبار

آئی ایم ایف کرپشن رپورٹ: حکومت نے مہلت مانگ لی

Published

on

آئی ایم ایف

🔹 پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات میں نیا موڑ

اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
حکومت نے کرپشن اینڈ گورننس رپورٹ شائع کرنے کے لیے باضابطہ طور پر مہلت طلب کی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ رپورٹ کو درست، شفاف اور جامع انداز میں تیار کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔


🔹 زرعی آمدن پر انکم ٹیکس مؤخر کرنے کی تجویز

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، سیلاب کے باعث صوبوں نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس نافذ کرنے کے لیے اضافی وقت مانگا ہے۔
کیونکہ حالیہ قدرتی آفات نے فصلوں اور کاشتکاروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اس لیے فوری ٹیکس عائد کرنا ممکن نہیں۔


🔹 مذاکرات کے اہم نکات

ذرائع کے مطابق، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے ورچوئل مذاکرات میں چار بڑے نکات پر بات ہو رہی ہے۔
ان میں سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنا، گورننس ڈائیگناسٹک رپورٹ، اسٹرکچرل ریفارمز، اور سرکاری اداروں کی مالی شفافیت شامل ہیں۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے گندم خریداری کا اوپن مارکیٹ میکنزم فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ نجی شعبہ اس عمل میں شامل ہو۔


🔹 حکومت کی اسٹرکچرل بینچ مارکس میں نرمی کی درخواست

مزید برآں، پاکستان نے آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ کچھ اسٹرکچرل بینچ مارکس میں نرمی کی جائے تاکہ اسٹاف لیول معاہدہ جلد مکمل ہو سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ان نکات پر نرمی حاصل کر لیتا ہے تو مالی پیکیج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news

بجلی صارفین کیلئے بری خبر، فی یونٹ قیمت بڑھنے کا امکان

Published

on

بجلی

بجلی قیمت میں اضافہ: فی یونٹ 48 پیسے بڑھنے کا امکان

بجلی قیمت میں اضافہ سے متعلق اہم خبر سامنے آ گئی ہے۔
ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر مہنگائی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
یہ اضافہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں متوقع ہے۔


نیپرا میں سی پی پی اے کی درخواست

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی ہے۔
اس درخواست پر نیپرا اتھارٹی کل سماعت کرے گی۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ماہ دسمبر کے دوران مجموعی طور پر 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔
اسی عرصے میں ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔


پیداواری لاگت اور ایندھن کا تناسب

سی پی پی اے کے مطابق دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔
مزید تفصیلات کے مطابق بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کا حصہ نمایاں رہا۔

ہائیڈل ذرائع سے 18.07 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 13.99 فیصد رہی۔


درآمدی ایندھن اور نیوکلیئر بجلی

درآمدی کوئلے سے 10.13 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار 11.20 فیصد رہی، جبکہ درآمدی گیس سے 17.24 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔

اس کے علاوہ نیوکلیئر ذرائع سے دسمبر کے دوران 25.05 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جو مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ ہے۔


صارفین کیلئے ممکنہ اثرات

اگر نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست منظور کر لی تو بجلی صارفین کو آئندہ ماہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بجلی کے بلوں میں فوری اثر ڈالتی ہے، جس سے گھریلو اور کمرشل صارفین دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

Continue Reading

کاروبار

گورنر سٹیٹ بینک: نئے کرنسی نوٹ کی تیاری آخری مراحل میں

Published

on

گورنر سٹیٹ بینک

نئے کرنسی نوٹ سے متعلق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک اہم پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق ملک میں نئے کرنسی نوٹ کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بات مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔
ابتدائی طور پر انہوں نے واضح کیا کہ نئے ڈیزائن کے نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔


نئے کرنسی نوٹ اور وفاقی کابینہ کی منظوری

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹ کے ڈیزائن پہلے ہی وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔
اب کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی تیاری کا تکنیکی عمل خاصا آگے بڑھ چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی خصوصیات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔


نئے کرنسی نوٹ کی چھپائی کا مرحلہ

جمیل احمد نے کہا کہ منظوری کے بعد دو سے تین مختلف مالیت کے نئے کرنسی نوٹ کی چھپائی شروع ہوگی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تمام مالیت کے نوٹس ایک ساتھ جاری نہیں کیے جائیں گے۔

مرکزی بینک کا مؤقف ہے کہ چھپائی مرحلہ وار کی جائے گی۔
اسی لیے نئے نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے۔


نئے کرنسی نوٹ کب مارکیٹ میں آئیں گے؟

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹ اس وقت گردش میں لائے جائیں گے جب مناسب سٹاک دستیاب ہوگا۔
بعد ازاں موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد مارکیٹ میں کسی قسم کی بے چینی یا قلت سے بچاؤ ہے۔
لہٰذا پرانے اور نئے نوٹس کچھ عرصے تک ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~