news
آئی ایم ایف کو سیلاب سے معاشی اہداف پر کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آیا

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/08/827959_66867391.jpg&description=آئی ایم ایف کو سیلاب سے معاشی اہداف پر کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/08/827959_66867391.jpg&description=آئی ایم ایف کو سیلاب سے معاشی اہداف پر کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کو رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں سیلاب کے باوجود معیشت کو کسی بڑے نقصان کا سامنا نہیں ہے۔ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی طرف سے بھی ایسے کسی شدید مالی نقصان کی نشاندہی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے مالی سال 2025 کی معاشی شرح نمو اور محصولات کی وصولی کے اہداف پر اثر پڑنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے تین دریاؤں میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کے نقصانات سے متعلق آئی ایم ایف کو ابتدائی اعداد و شمار فراہم کیے ہیں، تاہم ابھی تک مکمل تخمینہ جاری نہیں کیا گیا، خصوصاً پنجاب میں نقصانات کا جائزہ لینا باقی ہے۔
آئی ایم ایف کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی اور سیلاب کے ممکنہ معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے بھی اپنے تخمینے پیش کیے، لیکن آئی ایم ایف نے ان ابتدائی معلومات کی بنیاد پر کوئی بڑا نقصان نہ ہونے کا مشاہدہ کیا ہے۔
ادارے کے مطابق ٹیکس آمدن پر بھی سیلاب کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا ہے۔ حکومت نے وضاحت کی ہے کہ سیلاب سے متعلق اخراجات ایمرجنسی فنڈز سے پورے کیے جا سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر اضافی فنڈنگ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اس مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے اور اب بھی 3.7 فیصد سے 4 فیصد تک کا ہدف حاصل ہونے کی توقع ہے۔ پلاننگ کمیشن نے سیلاب سے ہونے والے مجموعی معاشی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 360 ارب روپے یا جی ڈی پی کا 0.3 فیصد لگایا ہے۔
زراعت میں بھی نقصان کا اثر محدود رہا، کیونکہ چاول اور گنے کی فصلوں کی بوائی اندازے سے زیادہ رقبے پر ہوئی، جس سے نقصان کی تلافی ممکن ہوئی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی معمول کے مطابق رہنے کی توقع ہے کیونکہ سیلاب کی وجہ سے درآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
تاہم، آئی ایم ایف نے ابھی تک اپنی طرف سے معاشی ترقی، درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے نئے تخمینے جاری نہیں کیے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات 25 ستمبر سے 8 اکتوبر تک جاری رہیں گے، جن کی کامیابی سے 1.2 ارب ڈالر سے زائد کی دو اقساط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






