انٹرٹینمنٹ
سیفی حسن: ایران کی فلم انڈسٹری پابندیوں کے باوجود ترقی کی راہ پر

ایران کی فلم انڈسٹری کی ترقی پر سیفی حسن کے تاثرات
پاکستانی ہدایتکار سیفی حسن نے کہا ہے کہ ایران میں سخت پابندیوں اور قدغنوں کے باوجود فلم انڈسٹری نے حیران کن ترقی کی ہے۔ ان کے مطابق دوپٹے اور برقعے کے ساتھ بھی بہترین اور معیاری فلمیں بن رہی ہیں۔
ایرانی سینما کی کامیابی
انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں میڈیا پر کافی پابندیاں ہیں، لیکن اس کے باوجود ایرانی سینما نے دنیا بھر میں اپنی شناخت قائم کرلی ہے۔ سیفی حسن نے کہا:
“وہاں اداکار دوپٹہ اور برقعہ پہن کر بھی کمال کی اداکاری کرتے ہیں، لیکن پھر بھی شاندار فلمیں تخلیق ہو رہی ہیں۔”
پاکستان اور ایران کا موازنہ
ہدایتکار نے کہا کہ پاکستان میں بھی معیاری کام ہوتا ہے۔ تاہم چونکہ یہاں مواد زیادہ بنتا ہے، اس لیے اچھا کام اکثر نمایاں نہیں ہو پاتا۔ مزید یہ کہ ایران نے اسی ماحول میں رہتے ہوئے ترقی کی ہے، جس کا ہم صرف ماضی کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں۔
پروڈکشن ہاؤسز اور فیصلے
سیفی حسن نے انکشاف کیا کہ پروڈکشن ہاؤس زیادہ تر مرکزی کرداروں کا انتخاب خود کرتے ہیں کیونکہ وہ منافع کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ ہدایتکاروں سے رائے ضرور لی جاتی ہے۔
ہدایتکار کا ذاتی اصول
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایسے پروجیکٹس پر کام نہیں کرتے جن میں پسماندہ سوچ کو دکھایا جائے، چاہے پروڈیوسرز انہیں اس پر تنقید ہی کیوں نہ کریں۔
انٹرٹینمنٹ
ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل: بچوں کی تربیت اور الزامات

🔴 ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل: والد نے وضاحت کر دی
ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل میں اپنے بیٹے کے حالیہ بیان پر پہلی بار موقف واضح کیا۔
بروکلن نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا تھا کہ والدین نے اس کی زندگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور والدہ نکولا پیلٹز کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا۔
ڈیوڈ بیکہم نے کہا کہ بچوں کو اپنی غلطیاں کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، کیونکہ انہی سے وہ سیکھتے ہیں۔
🔹 والد کی تربیتی سوچ اور ردعمل
ڈیوڈ بیکہم نے برطانوی ویب سائٹ کو بتایا:
“بچے غلطیاں کرتے ہیں، اسی طرح وہ سیکھتے ہیں۔ میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ انہیں سیکھنے کا موقع ملے، کبھی کبھار غلطیاں کرنے دینا ضروری ہوتا ہے۔”
یہ موقف ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل میں والد کی تربیتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی واضح کرتا ہے کہ والدین کا کام صرف رہنمائی کرنا ہے، اور بچوں کو اپنی زندگی کے تجربات کرنے دینا چاہیے۔
🔹 بروکلن کے الزامات اور خاندان میں تنازع
26 سالہ بروکلن نے الزام لگایا کہ ان کی والدہ نے اپریل 2022 میں شادی سے قبل اچانک نکولا کے لیے ویڈنگ گاؤن تیار کرنے سے دستبرداری اختیار کر لی۔
یہ بیان خاندان میں پیدا ہونے والے اختلافات کی تازہ مثال ہے اور میڈیا میں دھماکا خیز ردعمل پیدا کر رہا ہے۔
مزید براں، سوشل میڈیا پر یہ واقعہ وائرل ہوا جس سے عوام میں شدید بحث چھڑ گئی۔
اس سلسلے میں برطانوی میڈیا رپورٹس اور TMZ نے بھی خبر شائع کی ہے (TMZ)۔
🔹 والدین اور بچوں کے تعلقات پر اثر
ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل یہ بھی واضح کرتا ہے کہ والدین کبھی کبھار بچوں کو خود سیکھنے دینا چاہتے ہیں۔
یہ والدین کی ذمہ داری اور بچوں کی آزادی کے درمیان توازن پر روشنی ڈالتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: مشہور شخصیات کے خاندانی تنازعات
🔹 سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
بروکلن کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ساتھ ہزاروں تبصرے سامنے آئے۔
بہت سے صارفین نے والد کے صبر اور سمجھداری کو سراہا، جبکہ بعض نے بروکلن کے موقف کی حمایت کی۔
انٹرٹینمنٹ
ڈکی بھائی اغوا کیس، ملزمان کے خلاف درخواست دائر

لاہور: ڈکی بھائی اغوا کیس میں عدالت میں دائر درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اغوا کا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا۔
🔹 اغوا کا الزام اور ملزمان کے نام
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان میں حیدر علی، مان ڈوگر اور رجب بٹ شامل ہیں۔
درخواست کے مطابق انہوں نے رجب بٹ کی گاڑی میں گھات لگا کر منیب کو اغوا کیا۔
منیب، معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کا بھائی بتایا گیا ہے۔
🔹 ویڈیو ریکارڈنگ کا دعویٰ
درخواست کے مطابق رجب بٹ اور مان ڈوگر نے منیب کے منہ پر سیاہ کپڑا ڈالا۔
بعد ازاں اسے گاڑی میں قید کر دیا گیا۔
اسی دوران حیدر علی نے پورے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کی۔
🔹 پنجرے میں بند کرنے کا الزام
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منیب کو مرغیوں کے ایک پنجرے میں بند کیا گیا۔
بعد میں اغوا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔
یوں واقعے نے عوامی سطح پر تشویش پیدا کی۔
🔹 بازیابی اور سوشل میڈیا ردعمل
درخواست گزار کے مطابق ڈکی بھائی نے قانونی کارروائی کے بجائے خود جا کر بھائی کو بازیاب کروایا۔
اس تمام عمل کی ویڈیو بھی بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔
چنانچہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا۔
🔹 سماجی اثرات پر تشویش
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی وائرل ویڈیوز لاقانونیت کو فروغ دیتی ہیں۔
مزید یہ کہ تشدد اور انتہا پسندی کو عام کیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
🔹 قانونی مؤقف
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ملزمان کے اقدامات عوامی اخلاقیات کے خلاف ہیں۔
اس کے ساتھ ہی یہ امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ عمل ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ ڈکی بھائی اغوا کیس میں ملوث افراد قابلِ سزا جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






