news
باجوڑ میں خوارج سے کوئی بات چیت یا سمجھوتہ نہیں ہوگا، سیکیورٹی ذرائع

سیکیورٹی ذرائع نے باجوڑ کی صورت حال پر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ خوارج سے کسی بھی سطح پر بات چیت یا سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عناصر آبادیوں کے درمیان چھپ کر دہشت گردی اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائل اور خوارج کے درمیان کسی قسم کی بات چیت کے تاثر سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ دہشت گرد ریاست کے آگے مکمل سرنڈر نہ کریں، تب تک مذاکرات ممکن ہی نہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ قبائلی جرگے کی صورت میں ایک منطقی قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بھی آپریشن سے پہلے عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ کسی بھی مسلح کارروائی کا حق صرف ریاست کے پاس محفوظ ہے۔باجوڑ ان کا مزید کہنا تھا کہ خوارج کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ دین اجازت دیتا ہے، نہ ریاست اور نہ خیبرپختونخوا کے غیرت مند عوام کی روایات۔ ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل ہے اور قبائلی عمائدین کے سامنے تین نکات رکھے گئے ہیں: پہلا، یہ خوارج جن میں بڑی تعداد افغانیوں کی ہے، انہیں علاقے سے نکالا جائے؛ دوسرا، اگر قبائل یہ کام خود نہیں کر سکتے تو ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کر دیں تاکہ فورسز کارروائی کر سکیں؛ اور تیسرا، اگر یہ دونوں آپشن ممکن نہ ہوں تو پھر بھی ہر صورت میں نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی، کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کسی صورت روکی نہیں جائے گی۔
قانون
لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں سماعت

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اویس خالد نے لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی تھی۔
اس میں نشاندہی کی گئی کہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ آئین کے مطابق نہیں ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ آئین شہریوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔
اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت خطرناک اقدام ہے۔
ماضی میں پتنگ بازی سے کئی حادثات ہو چکے ہیں۔
لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی کہ فیصلے تک ڈپٹی کمشنر کو پتنگ بنانے کی اجازت دینے والا نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کیا جائے۔
ساتھ ہی، درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ پتنگ بازی کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔
دوران سماعت، حکومت پنجاب اور سی سی پی او لاہور نے تحریری جواب جمع کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ پتنگ بازی کے لیے ایس او پیز بنائے گئے ہیں۔
خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے اور قید کی سزا مقرر ہے۔
لاہور شہر کو ریڈ، گرین، بلیو اور ییلو زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پتنگ بازی صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے گی۔
عدالت نے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر فریقین سے 27 جنوری تک جواب طلب کر لیا ہے۔
بعد ازاں عدالت اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ سماعت شہری حفاظت اور قانون کی عملداری کے توازن پر روشنی ڈالتی ہے۔
news
ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری و توسیع کی منظوری

ہائی کورٹ ججز تقرری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات پر اعلیٰ عدلیہ میں نئی تقرریوں اور توسیعات کی منظوری دے دی۔
یہ فیصلے وزیراعظم کے مشورے سے کیے گئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد عدالتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
ساتھ ہی زیرِ التوا مقدمات کے جلد فیصلے کو یقینی بنانا بھی ترجیح ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔
ان میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ اور جسٹس ریاضت علی سحر شامل ہیں۔
اسی طرح جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی اور جسٹس جان علی جونیجو بھی مستقل ہوئے۔
جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا کو بھی مستقل حیثیت مل گئی۔
مزید برآں، سندھ ہائی کورٹ کے دو ایڈیشنل ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔
ان میں جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ شامل ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں ہائی کورٹ ججز تقرری کے تحت 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنا دیا گیا۔
ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی شامل ہیں۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






