news
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج مسلسل دوسرے دن بھرپور تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 31 ہزار پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کاروباری ہفتے کے آخری دن کا آغاز بھی مثبت انداز میں ہوا، جب 253 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ مارکیٹ کھلی اور انڈیکس 130,940 پوائنٹس پر آ گیا۔
کاروبار کے پہلے سیشن کے اختتام تک تیزی کا یہ سلسلہ برقرار رہا اور انڈیکس مزید 484 پوائنٹس بڑھ کر 131,171 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد بھی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا اور تیزی کا رجحان مزید گہرا ہوتا گیا، یہاں تک کہ 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 1145 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور مارکیٹ 131,832 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر بند ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس نے پہلی بار 131 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرکے نئی تاریخ رقم کی تھی۔ مسلسل دو دن کی زبردست تیزی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
قانون
لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں سماعت

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اویس خالد نے لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی تھی۔
اس میں نشاندہی کی گئی کہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ آئین کے مطابق نہیں ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ آئین شہریوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔
اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت خطرناک اقدام ہے۔
ماضی میں پتنگ بازی سے کئی حادثات ہو چکے ہیں۔
لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی کہ فیصلے تک ڈپٹی کمشنر کو پتنگ بنانے کی اجازت دینے والا نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کیا جائے۔
ساتھ ہی، درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ پتنگ بازی کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔
دوران سماعت، حکومت پنجاب اور سی سی پی او لاہور نے تحریری جواب جمع کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ پتنگ بازی کے لیے ایس او پیز بنائے گئے ہیں۔
خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے اور قید کی سزا مقرر ہے۔
لاہور شہر کو ریڈ، گرین، بلیو اور ییلو زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پتنگ بازی صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے گی۔
عدالت نے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر فریقین سے 27 جنوری تک جواب طلب کر لیا ہے۔
بعد ازاں عدالت اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ سماعت شہری حفاظت اور قانون کی عملداری کے توازن پر روشنی ڈالتی ہے۔
news
ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری و توسیع کی منظوری

ہائی کورٹ ججز تقرری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات پر اعلیٰ عدلیہ میں نئی تقرریوں اور توسیعات کی منظوری دے دی۔
یہ فیصلے وزیراعظم کے مشورے سے کیے گئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد عدالتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
ساتھ ہی زیرِ التوا مقدمات کے جلد فیصلے کو یقینی بنانا بھی ترجیح ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔
ان میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ اور جسٹس ریاضت علی سحر شامل ہیں۔
اسی طرح جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی اور جسٹس جان علی جونیجو بھی مستقل ہوئے۔
جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا کو بھی مستقل حیثیت مل گئی۔
مزید برآں، سندھ ہائی کورٹ کے دو ایڈیشنل ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔
ان میں جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ شامل ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں ہائی کورٹ ججز تقرری کے تحت 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنا دیا گیا۔
ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی شامل ہیں۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






