news
شمالی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام، 30 بھارتی اسپانسرڈ خوارج ہلاک

پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں افغان سرحد کے قریب دراندازی کی بڑی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم “فتنہ الخوارج” کے 30 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم اور 2 جولائی اور پھر 2 اور 3 جولائی کی درمیانی شب خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی گئی، جس میں سکیورٹی فورسز نے انتہائی مہارت کے ساتھ دہشت گردوں کی بڑی نقل و حرکت کو روکا۔ کارروائی کے دوران ہلاک شدگان سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ یہ گروہ بھارت کے ایماء پر پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا تھا۔ شمالی وزیرستان سکیورٹی فورسز نے اس پیش قدمی کو بروقت روکتے ہوئے ممکنہ بڑے سانحے سے ملک کو محفوظ رکھا۔ ترجمان پاک فوج نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور غیر ملکی پراکسیز کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ کامیابی پاک فوج کے مستعد انٹیلیجنس نیٹ ورک اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔ سکیورٹی فورسز سرحدوں کے دفاع اور بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
news
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کے جدید انتظامات ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی ای چالان سسٹم متعارف کرا چکی ہے، اب اگلے مرحلے میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کریں۔
حکام کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ مرکزی کنٹرول روم سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






