news
پاکستان روس سٹریٹیجک شراکت داری میں پیش رفت، بھارت کو سفارتی دھچکا

پاکستان اور روس کے درمیان سٹریٹیجک شراکت داری میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے، جس کی وجہ سے بھارت کو ایک اور سفارتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ روس نے پاکستان کی مضبوط معاشی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں بڑے سرمایہ کاری کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس بدلتی ہوئی صورت حال نے خطے میں بھارت کے اثر و رسوخ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ عرب نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان ایک ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت کی توقع ہے، جبکہ پاکستان کا روس سے سستے تیل کی درآمد کا عمل بھی کامیابی سے جاری ہے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق، وسطی ایشیا میں روابط کے حوالے سے روس پاکستان کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بارٹر ٹریڈ سسٹم متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ روسی ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان اسٹیل ملز کے 700 ایکڑ رقبے پر ایک جدید پلانٹ تعمیر کیا جا رہا ہے، جس سے خام تیل کی ترسیل کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ اس منصوبے سے پاکستان اسٹیل کی درآمدات میں 30 فیصد کمی اور 2.6 ارب ڈالر کی بچت کی توقع ہے۔ بھارت کی جانب سے اس شراکت داری کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کیا گیا، لیکن روس اور چین کی جانب سے پاکستان پر بڑھتا ہوا اعتماد ملک کی کامیاب خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
news
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کے جدید انتظامات ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی ای چالان سسٹم متعارف کرا چکی ہے، اب اگلے مرحلے میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کریں۔
حکام کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ مرکزی کنٹرول روم سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






