head lines
یوم تکبیر : پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو 27 سال مکمل

آج پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو 27 سال مکمل ہو گئے ہیں، اور اس موقع پر ملک بھر میں یوم تکبیر ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ 28 مئی 1998 کو، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں، بلوچستان کے چاغی میں چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے تھے۔ یہ دھماکے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کا بھرپور جواب تھے اور اس کے ذریعے خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا گیا۔ اس شاندار کارنامے نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور امتِ مسلمہ کی پہلی ایٹمی طاقت بنا دیا۔
یومِ تکبیر کے موقع پر آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے، اور وفاقی و صوبائی سطح پر خصوصی تقریبات، سیمینارز، ریلیوں اور ملی نغموں کے ذریعے وطن کی سلامتی، خودمختاری اور ایٹمی طاقت پر فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل کو اس تاریخی دن کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے چاغی سمیت مختلف شہروں میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم تکبیر 28 مئی پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے، جب ہم نے اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا اور ناقابل تسخیر دفاعی صلاحیت حاصل کی۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ یومِ تکبیر ہمیں اتحاد، عزم اور استقلال کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
head lines
رانا ثناء اللہ: اٹھارویں ترمیم میں بہتری کی گنجائش موجود

🔹 گل پلازہ سانحے پر تحقیقات کا مطالبہ
گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ گل پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور وہ کب تعمیر کی گئیں۔
ان کے مطابق اس پورے معاملے کا شفاف احتساب ہونا ضروری ہے۔
🔹 ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ضلعی حکومتوں کو اختیارات نہیں ملیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔
لہٰذا، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
🔹 خواجہ آصف کے بیان پر وضاحت
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان ذاتی رائے تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی رکن کو اظہارِ رائے سے روکنا مناسب نہیں۔
ہر رکن کو اپنی بات کہنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔
لہٰذا، ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
🔹 اٹھارویں ترمیم پر مکالمے کی ضرورت
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سے بنی تھی۔
لیکن اگر بہتری کے لیے مکالمہ ہو تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی معاملات پر گفت و شنید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






