news
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، بھارت کو بھرپور جواب دینے پر پاک فوج کی ستائش

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جو دو گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے شرکت کی، جہاں بھارت کی حالیہ جارحیت اور پاکستان کی جوابی کارروائی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران پاکستانی مسلح افواج کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کو سراہا گیا۔ شرکاء نے بھارت کی جانب سے بلااشتعال حملوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ارکانِ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ آج قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے اور پاکستان کی پالیسی و موقف واضح کریں گے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا سرکاری اعلامیہ جلد جاری کیا جائے گا، جبکہ وزیراعظم کی جانب سے وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کے شہری علاقوں پر میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں پاکستان کی مسلح افواج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے 5 جنگی طیارے مار گرائے جن میں 3 رافیل طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور کئی چیک پوسٹس تباہ کی گئیں، جس کے بعد بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر چورا کمپلیکس میں سفید جھنڈا لہرا کر شکست تسلیم کرلی۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
news
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کے جدید انتظامات ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی ای چالان سسٹم متعارف کرا چکی ہے، اب اگلے مرحلے میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کریں۔
حکام کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ مرکزی کنٹرول روم سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






